نئی دہلی،فروری (ایس او نیوزایجنسی)کسانوں کے معاملے میں جمعہ کو جب راجیہ سبھا میں بحث شروع ہوئی تو ارکان پارلیمان کے درمیان تقریباً 3 گھنٹوں تک خوب تو تو میں میں ہوئیں۔ اسدوران شیوسینا کے رکن پارلیمان سنجے راؤت اور کانگریس کے رہنما آنند شرما نے حکومت پرزبردست تنقید کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تو وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے مودی حکومت کا دفاع کیا-
راجیہ سبھا میں کانگریس کے نائب رہنما آنند شرما نے کہا کہ حکومت کو حالیہ تینوں زرعی قوانین کو واپس لینا چاہئے اور ان کی جگہ پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں نئے قوانین کو پیش کرنا چاہئے - کانگریس ان تینوں قوانین کی حمایت کرے گی-
شرما نے ایوان صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو جمہوری عمل اور رائے عامہ کا احترام کرنا چاہئے -انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دے اور کسانوں سے بات چیت کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لے -
انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں نئے قوانین متعارف کرائے - انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومتوں اور عوام نے حکومت کی مکمل حمایت کی ہے لیکن حکومت کے کچھ فیصلوں نے کسانوں کو کورونا کی وبا کے اس بحران میں بھی سڑکوں پر اتر کر لڑنے پر مجبور کردیا ہے - حکومت کو اس پر غور کرنا چاہئے -
اس موقع پر زراعت اور دیہی ترقی و پنچایتی راج کے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت ہند نئے زرعی قوانین میں ترمیم کے لئے تیار ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ قوانین میں کسی طرح کی غلطی ہے-
مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ زرعی مصنوعات کی پیداوار کے کاروبار سے متعلق نئے قوانین میں التزام کیا گیا ہے کہ کسان اپنی پیداوار ملک میں کہیں بھی فروخت کر سکیں اور اے پی ایم سی کے باہر جو زرعی مصنوعات کا کاروبار ہوگا اس پر مرکز یا ریاست کی جانب سے کوئی ٹیکس (فیس) بھی نہیں لگے گا-